EN हिंदी
محبت کی ہرگز نہیں ہار ہوگی | شیح شیری
mohabbat ki hargiz nahin haar hogi

غزل

محبت کی ہرگز نہیں ہار ہوگی

جیوتی آزاد کھتری

;

محبت کی ہرگز نہیں ہار ہوگی
بھلے لاکھ دنیاں یہ دیوار ہوگی

محبت نہیں جرم کوئی جہاں میں
نظر میں وہ پھر کیوں خطا‌ وار ہوگی

بھلا چین کیسے مجھے آئے گا پھر
نہیں بیچ اپنے جو تکرار ہوگی

بھروسہ رکھوگے خدا پہ جو اپنے
تو کشتی سمندر سے بھی پار ہوگی

یہی میں نے اپنے بڑوں سے ہے سیکھا
نہیں حوصلوں کی کبھی ہار ہوگی

اس امید پر جی رہی ہے جیوتیؔ
کبھی تو غریبوں کی سرکار ہوگی