EN हिंदी
محبت بے نیاز‌ اسوا ہے | شیح شیری
mohabbat be-niyaz-e-ma-siwa hai

غزل

محبت بے نیاز‌ اسوا ہے

مخمور جالندھری

;

محبت بے نیاز‌ اسوا ہے
بڑے جھگڑوں پہ قابو پا لیا ہے

تصور فی الحقیقت معجزہ ہے
کسی کا دل پہ سایہ پڑ رہا ہے

خدا ہی سے نہ کیوں مانگوں پناہیں
کہ ذہن نا خدا میں بھی خدا ہے

محافظ بھی مرا مجبور نکلا
گنا کرتا ہوں میں وہ دیکھتا ہے

سمجھتا ہے تجھے اپنی تجلی
ترا پرتو بھی کتنا خود نما ہے

خدائے عشق ہے وہ حسن کافر
مگر اب تک نہ سمجھا عشق کیا ہے