EN हिंदी
میاں مجبوریوں کا ربط اکثر ٹوٹ جاتا ہے | شیح شیری
miyan majburiyon ka rabt aksar TuT jata hai

غزل

میاں مجبوریوں کا ربط اکثر ٹوٹ جاتا ہے

مینک اوستھی

;

میاں مجبوریوں کا ربط اکثر ٹوٹ جاتا ہے
وفائیں گر نہ ہوں بنیاد میں گھر ٹوٹ جاتا ہے

شناور کو کوئی دلدل نہیں دریا دیا جائے
جہاں کم ظرف بیٹھے ہوں سخنور ٹوٹ جاتا ہے

انا خود دار کی رکھتی ہے اس کا سر بلندی پر
کسی پورس کے آگے ہر سکندر ٹوٹ جاتا ہے

ہم اپنے دوستو کے طنز سن کر مسکراتے ہیں
مگر اس وقت کچھ اندر ہی اندر ٹوٹ جاتا ہے

مرے دشمن کے جو حالات ہیں ان سے یہ ظاہر ہے
کہ اب شیشے سے ٹکرانے پہ پتھر ٹوٹ جاتا ہے

سنجو رکھی ہیں دل میں قیمتی یادیں مگر پھر بھی
بس اک نازک سی ٹھوکر سے یہ لاکر ٹوٹ جاتا ہے

کنارے پر نہیں اے دوست میں خود ہی کنارہ ہوں
مجھے چھونے کی کوشش میں سمندر ٹوٹ جاتا ہے