EN हिंदी
مٹا سا حرف ہوں بگڑی ہوئی سی بات ہوں میں | شیح شیری
miTa sa harf hun bigDi hui si baat hun main

غزل

مٹا سا حرف ہوں بگڑی ہوئی سی بات ہوں میں

سراج لکھنوی

;

مٹا سا حرف ہوں بگڑی ہوئی سی بات ہوں میں
جبین وقت پہ اک نقش بے ثبات ہوں میں

بتا بسیط زمانے ہے کیا یہی انصاف
جو ہے عدوئے نمود سحر وہ رات ہوں میں

گمان یہ تھا کہ ہوں مرکز ہجوم نگاہ
یقین یہ ہے کہ محروم التفات ہوں میں

ہے کس گنہ کی سیاہی مری غلط فہمی
میں جانتا تھا کہ روح تجلیات ہوں میں

ہر آہ سرد ہے افتاد اشک کی تفسیر
اکھڑ چلے ہیں قدم وقف حادثات ہوں میں

پڑھوں شکست عزائم کا مرثیہ کب تک
نہ جانے کب سے سپرد‌ مقدرات ہوں میں

یہ سب درست مگر پھر یہی کہوں گا سراجؔ
خود اک زمانہ ہوں خود ایک کائنات ہوں میں