EN हिंदी
مری زندگی بھی تو ہے مرا مدعا بھی تو ہے | شیح شیری
meri zindagi bhi tu hai mera muddaa bhi tu hai

غزل

مری زندگی بھی تو ہے مرا مدعا بھی تو ہے

رام کرشن مضطر

;

مری زندگی بھی تو ہے مرا مدعا بھی تو ہے
میں تجھی کو چاہتا ہوں تو ہی میری آرزو ہے

کسے ڈھونڈھتی ہیں ہر سو مری بے قرار نظریں
تو یہ خوب جانتا ہے مجھے کس کی جستجو ہے

مری چشم حسن ہی میں ترے رخ کی تابشیں ہیں
مرے حلقۂ نظر میں تری زلف مشک بو ہے

جو کرم پہ تم ہو مائل تو یہ شان ہے تمہاری
نہ سوال کیوں کروں میں کہ سوال میری خو ہے

مری روح خوش ہے مضطرؔ کہ مری طلب ہے صادق
جو نظر سے چھپ رہا تھا وہی آج روبرو ہے