EN हिंदी
مری مستی کے افسانے رہیں گے | شیح شیری
meri masti ke afsane rahenge

غزل

مری مستی کے افسانے رہیں گے

کلیم عاجز

;

مری مستی کے افسانے رہیں گے
جہاں گردش میں پیمانے رہیں گے

نکالے جائیں گے اہل محبت
اب اس محفل میں بیگانے رہیں گے

یہی انداز مے نوشی رہے گا
تو یہ شیشے نہ پیمانے رہیں گے

رہے گا سلسلہ دار و رسن کا
جہاں دو چار دیوانے رہیں گے

جنہیں گلشن میں ٹھکرایا گیا ہے
انہی پھولوں کے افسانے رہیں گے

خرد زنجیر پہناتی رہے گی
جو دیوانے ہیں دیوانے رہیں گے