مری کارگاہ دل میں ابھی کام ہے زیادہ
کوئی چیز اک جگہ سے ذرا خام ہے زیادہ
کسی منظر شفق کو کہاں آنکھ میں جگہ دوں
مرے خون دل سے رنگیں مری شام ہے زیادہ
گھڑی بھر ٹھہرنے والے ذرا یہ خیال رکھنا
یہ جو سایۂ شجر ہے کوئی دام ہے زیادہ
مرا مشورہ یہی ہے اسی راستے سے جانا
بڑا صاف ہے اگرچہ کئی گام ہے زیادہ
پڑے ہیں بہت سے میرے ابھی کام نامکمل
کوئی بوجھ جاتے دن پر سر شام ہے زیادہ
کوئی جرم دوسرے کا مرا بن گیا ہے کیسے
تری فرد جرم میں کیوں مرا نام ہے زیادہ
کبھی کوچۂ طلب میں کبھی راہ زرگری پر
ترا کار حسن اب کچھ سر عام ہے زیادہ
تری آنکھ میں جو شاہیںؔ لبالب بھرا ہوا ہے
کسی اک طرف سے خالی وہیں جام ہے زیادہ
غزل
مری کارگاہ دل میں ابھی کام ہے زیادہ
جاوید شاہین

