EN हिंदी
مری جاں جدائی نہ ہوگی تو ہوگی | شیح شیری
meri jaan judai na hogi to hogi

غزل

مری جاں جدائی نہ ہوگی تو ہوگی

مرزا آسمان جاہ انجم

;

مری جاں جدائی نہ ہوگی تو ہوگی
کسی دن لڑائی نہ ہوگی تو ہوگی

انہیں شرم ہے اور یہاں شوق بے حد
اگر ہاتھاپائی نہ ہوگی تو ہوگی

نہیں اتنی جرأت کہ قدموں پہ گریے
کہ ان سے صفائی نہ ہوگی تو ہوگی

ذرا جذبۂ دل مدد کر خدارا
جو ان تک رسائی نہ ہوگی تو ہوگی

نہ کچھ حسن و خوبی میں فرق آیا ہوگا
یہ دولت لٹائی نہ ہوگی تو ہوگی

رہائی اسیر محبت کو تیرے
اگر موت آئی نہ ہوگی تو ہوگی

نئے ظلم ایجاد کرتے رہو تم
جہاں میں دہائی نہ ہوگی تو ہوگی

نہیں باک غیروں سے ملنے میں ان کو
جو دل میں برائی نہ ہوگی تو ہوگی

ہر اک بات پر آفریں جب کہیں سب
تو پھر خود ستائی نہ ہوگی تو ہوگی

محبت کی جو آنکھ تھی آگے تیری
جو تو نے چرائی نہ ہوگی تو ہوگی

محبت کا گر کھل گیا حال ان پر
تو انجمؔ رکھائی نہ ہوگی تو ہوگی