EN हिंदी
مری دیوانگی کی حد نہ پوچھو تم کہاں تک ہے | شیح شیری
meri diwangi ki had na puchho tum kahan tak hai

غزل

مری دیوانگی کی حد نہ پوچھو تم کہاں تک ہے

افضل الہ آبادی

;

مری دیوانگی کی حد نہ پوچھو تم کہاں تک ہے
زمیں پر ہوں مگر میری رسائی لا مکاں تک ہے

ترا جلوہ تو ایسے عام ہے سارے زمانے میں
وہیں تک دیکھ سکتا ہے نظر جس کی جہاں تک ہے

کسی کو کیا خبر احساس ہے لیکن مرے دل کو
کہ اس کے پیار کی برسات میرے دشت جاں تک ہے

ذرا برق ستم سے پوچھ لیتا کاش کوئی یہ
ترے قہر و غضب کا سلسلہ آخر کہاں تک ہے

ہمیں چبھتے ہیں کیوں کانٹوں کی صورت آنکھ میں تیری
فسادی کا نشانہ کیوں ہمارے ہی مکاں تک ہے

توجہ خاک کے ذروں کی جانب کیوں کریں افضلؔ
نظر اپنی مہ و پروین تک ہے کہکشاں تک ہے