EN हिंदी
مری بے رشتہ دلی سے اسے مزہ مل جائے | شیح شیری
meri be-rishta-dili se use maza mil jae

غزل

مری بے رشتہ دلی سے اسے مزہ مل جائے

شاد لکھنوی

;

مری بے رشتہ دلی سے اسے مزہ مل جائے
جگر کباب جو کوئی جلا بھنا مل جائے

محال ہے جو خدا کا دو دوسرا پیدا
جواب کیا صنم لاجواب کا مل جائے

ملے نہ عید وہ ظالم جو عید قرباں میں
گلے سے تیغ ملے تیغ سے گلا مل جائے

عیال و مال نے روکا ہے دم کو آنکھوں میں
یہ ٹھگ ہٹیں تو مسافر کو راستہ مل جائے

ملیں علی و محمد تو رب ملے اے شادؔ
سوائے سنگ بتوں کے ملے سے کیا مل جائے