مری بے رشتہ دلی سے اسے مزہ مل جائے
جگر کباب جو کوئی جلا بھنا مل جائے
محال ہے جو خدا کا دو دوسرا پیدا
جواب کیا صنم لاجواب کا مل جائے
ملے نہ عید وہ ظالم جو عید قرباں میں
گلے سے تیغ ملے تیغ سے گلا مل جائے
عیال و مال نے روکا ہے دم کو آنکھوں میں
یہ ٹھگ ہٹیں تو مسافر کو راستہ مل جائے
ملیں علی و محمد تو رب ملے اے شادؔ
سوائے سنگ بتوں کے ملے سے کیا مل جائے
غزل
مری بے رشتہ دلی سے اسے مزہ مل جائے
شاد لکھنوی

