EN हिंदी
مرے ناصح مجھے سمجھا رہے ہیں | شیح شیری
mere naseh mujhe samjha rahe hain

غزل

مرے ناصح مجھے سمجھا رہے ہیں

عزیز لکھنوی

;

مرے ناصح مجھے سمجھا رہے ہیں
فریضہ ہے ادا فرما رہے ہیں

دھواں اٹھتا ہے اک اک موئے تن سے
سزا اپنے کیے کی پا ہے ہیں

طلسم ہستیٔ فانی دکھا کر
ابھی کچھ دیر وہ بھلا رہے ہیں

جہاں سے کل ہمیں آنا پڑا تھا
وہیں مجبور ہو کر جا رہے ہیں

دکھا دیں گے عزیزؔ انجام دنیا
ابھی تو خیر دھوکا کھا رہے ہیں