مرا نام قیس کیوں کر ترے نام تک نہ پہنچے
بخدا وہ مقتدی کیا جو امام تک نہ پہنچے
وہ حیات عارضی کیا جو دوام تک نہ پہنچے
وہ اصول زندگی کیا جو نظام تک نہ پہنچے
جو مجھے ذلیل کہہ کر مجھے پوچھتے ہو سب سے
مری ذات تک تو پہنچے مرے نام تک نہ پہنچے
یہ کسی کا مجھ سے کہنا کرے خلق جس سے رسوا
کوئی ایسی بات دیکھو مرے نام تک نہ پہنچے
ترے عشق میں ہمیشہ ملیں پیچ دار راہیں
کبھی ہم بھٹک بھٹک کر رہ عام تک نہ پہنچے
غزل
مرا نام قیس کیوں کر ترے نام تک نہ پہنچے
رشید رامپوری

