EN हिंदी
مرا نام قیس کیوں کر ترے نام تک نہ پہنچے | شیح شیری
mera nam qais kyun kar tere nam tak na pahunche

غزل

مرا نام قیس کیوں کر ترے نام تک نہ پہنچے

رشید رامپوری

;

مرا نام قیس کیوں کر ترے نام تک نہ پہنچے
بخدا وہ مقتدی کیا جو امام تک نہ پہنچے

وہ حیات عارضی کیا جو دوام تک نہ پہنچے
وہ اصول زندگی کیا جو نظام تک نہ پہنچے

جو مجھے ذلیل کہہ کر مجھے پوچھتے ہو سب سے
مری ذات تک تو پہنچے مرے نام تک نہ پہنچے

یہ کسی کا مجھ سے کہنا کرے خلق جس سے رسوا
کوئی ایسی بات دیکھو مرے نام تک نہ پہنچے

ترے عشق میں ہمیشہ ملیں پیچ دار راہیں
کبھی ہم بھٹک بھٹک کر رہ عام تک نہ پہنچے