EN हिंदी
دامان کوہ میں جو میں ڈاڑھ مار رویا | شیح شیری
daman-e-koh mein jo mein DaDh mar roya

غزل

دامان کوہ میں جو میں ڈاڑھ مار رویا

میر تقی میر

;

دامان کوہ میں جو میں ڈاڑھ مار رویا
اک ابر واں سے اٹھ کر بے اختیار رویا

پڑتا نہ تھا بھروسا عہد وفاے گل پر
مرغ چمن نہ سمجھا میں تو ہزار رویا

ہر گل زمین یاں کی رونے ہی کی جگہ تھی
مانند ابر ہر جا میں زار زار رویا

تھی مصلحت کہ رک کر ہجراں میں جان دیجے
دل کھول کر نہ غم میں میں ایک بار رویا

اک عجز عشق اس کا اسباب صد الم تھا
کل میرؔ سے بہت میں ہو کر دو چار رویا