EN हिंदी
بغیر دل کہ یہ قیمت ہے سارے عالم کی | شیح شیری
baghair dil ki ye qimat hai sare aalam ki

غزل

بغیر دل کہ یہ قیمت ہے سارے عالم کی

میر تقی میر

;

بغیر دل کہ یہ قیمت ہے سارے عالم کی
کسو سے کام نہیں رکھتی جنس آدم کی

کوئی ہو محرم شوخی ترا تو میں پوچھوں
کہ بزم عیش جہاں کیا سمجھ کے برہم کی

ہمیں تو باغ کی تکلیف سے معاف رکھو
کہ سیر و گشت نہیں رسم اہل ماتم کی

تنک تو لطف سے کچھ کہہ کہ جاں بہ لب ہوں میں
رہی ہے بات مری جان اب کوئی دم کی

گزرنے کو تو کج و واکج اپنی گزرے ہے
جفا جو ان نے بہت کی تو کچھ وفا کم کی

گھرے ہیں درد و الم میں فراق کے ایسے
کہ صبح عید بھی یاں شام ہے محرم کی

قفس میں میرؔ نہیں جوش داغ سینے پر
ہوس نکالی ہے ہم نے بھی گل کے موسم کی