آہ میری زبان پر آئی
یہ بلا آسمان پر آئی
عالم جاں سے تو نہیں آیا
ایک آفت جہان پر آئی
پیری آفت ہے پھر نہ تھا گویا
یہ بلا جس جوان پر آئی
ہم بھی حاضر ہیں کھینچیے شمشیر
طبع گر امتحان پر آئی
تب ٹھکانے لگی ہماری خاک
جب ترے آستاں پر آئی
آتش رنگ گل سے کیا کہیے
برق تھی آشیاں پر آئی
طاقت دل برنگ نکہت گل
پھیر اپنے مکان پر آئی
ہو جہاں میرؔ اور غم اس کا
جس سے عالم کی جان پر آئی
غزل
آہ میری زبان پر آئی
میر تقی میر

