EN हिंदी
دن نہیں رات نہیں صبح نہیں شام نہیں | شیح شیری
din nahin raat nahin subh nahin sham nahin

غزل

دن نہیں رات نہیں صبح نہیں شام نہیں

میر تقی میر

;

دن نہیں رات نہیں صبح نہیں شام نہیں
وقت ملنے کا مگر داخل ایام نہیں

مثل عنقا مجھے تم دور سے سن لو ورنہ
ننگ ہستی ہوں مری جائے بجز نام نہیں

خطر راہ وفا بلکہ بہت دور کھنچا
عمر گزری کہ بہم نامہ و پیغام نہیں

راز پوشی محبت کے تئیں چاہیے ضبط
سو تو بے تابئ دل بن مجھے آرام نہیں

بے قراری جو کوئی دیکھے ہے سو کہتا ہے
کچھ تو ہے میرؔ کہ اک دم تجھے آرام نہیں