EN हिंदी
جنس گراں کو تجھ سے جو لوگ چاہتے ہیں | شیح شیری
jins-e-giran ko tujhse jo log chahte hain

غزل

جنس گراں کو تجھ سے جو لوگ چاہتے ہیں

میر تقی میر

;

جنس گراں کو تجھ سے جو لوگ چاہتے ہیں
وے روگ اپنے جی کو ناحق بساہتے ہیں

اس میکدے میں ہم بھی مدت سے ہیں ولیکن
خمیازہ کھینچتے ہیں ہر دم جماہتے ہیں

ناموس دوستی سے گردن بندھی ہے اپنی
جیتے ہیں جب تلک ہم تب تک نباہتے ہیں

سہل اس قدر نہیں ہے مشکل پسندی میری
جو تجھ کو دیکھتے ہیں مجھ کو سراہتے ہیں

وے دن گئے کہ راتیں نالوں سے کاٹتے تھے
بے ڈول میرؔ صاحب اب کچھ کراہتے ہیں