EN हिंदी
میٹھی ہے ایسی بات اس کی | شیح شیری
miThi hai aisi baat uski

غزل

میٹھی ہے ایسی بات اس کی

مرزا مسیتابیگ منتہی

;

میٹھی ہے ایسی بات اس کی
لونڈی ہے اک نبات اس کی

سمجھا نہ میں ایک بات اس کی
مجھ پر کیا کائنات اس کی

عالم ہے بے ثبات اے دل
اک ذات کو ہے ثبات اس کی

مہ اس کا ہے آفتاب اس کا
دن اس کا ہے اور رات اس کی

کس منہ سے کروں میں وصف اس کا
ہے عقل سے دور ذات اس کی

ممبر پہ جو بک رہا ہے واعظ
کب سنتا ہوں خیر بات اس کی

ہے دولت حسن پاس تیرے
دیتا نہیں کیوں زکوٰۃ اس کی

ہے جو کہ شہید تیغ تسلیم
ہے مثل خضر حیات اس کی

دم دے کے نہ نقد دل کو لے لے
چل جائے کہیں نہ گھات اس کی

جو دل کہ ہے غرق بہر دنیا
کیوں کر ہوگی نجات اس کی

دل جاتا ہے سوئے کوئے قاتل
خالق رکھے حیات اس کی

دم دے کے لے آیا یار کو دل
کیا رہ گئی آج بات اس کی

تنہا نہیں منتہیؔ کسی جا
تقدیر ہے اس کے ساتھ اس کی