میری دیوانگی نہیں جاتی
رو رہا ہوں ہنسی نہیں جاتی
تیرے جلووں سے آشکارا ہوں
چاند کی چاندنی نہیں جاتی
ترک مے ہی سمجھ لے اے ناصح
اتنی پی ہے کہ پی نہیں جاتی
جب سے دیکھا ہے ان کو بے پردہ
نخوت آگہی نہیں جاتی
شوخیٔ حسن بے اماں کی قسم
حسن کی سادگی نہیں جاتی
ان کی دریا دلی کو کیا کہئے
میری تشنہ لبی نہیں جاتی
غزل
میری دیوانگی نہیں جاتی
شکیل بدایونی

