EN हिंदी
میری دیوانگی نہیں جاتی | شیح شیری
meri diwangi nahin jati

غزل

میری دیوانگی نہیں جاتی

شکیل بدایونی

;

میری دیوانگی نہیں جاتی
رو رہا ہوں ہنسی نہیں جاتی

تیرے جلووں سے آشکارا ہوں
چاند کی چاندنی نہیں جاتی

ترک مے ہی سمجھ لے اے ناصح
اتنی پی ہے کہ پی نہیں جاتی

جب سے دیکھا ہے ان کو بے پردہ
نخوت آگہی نہیں جاتی

شوخیٔ حسن بے اماں کی قسم
حسن کی سادگی نہیں جاتی

ان کی دریا دلی کو کیا کہئے
میری تشنہ لبی نہیں جاتی