EN हिंदी
میرے رونے پر ہنسی اچھی نہیں | شیح شیری
mere rone par hansi achchhi nahin

غزل

میرے رونے پر ہنسی اچھی نہیں

دتا تریہ کیفی

;

میرے رونے پر ہنسی اچھی نہیں
بس جی بس یہ دل لگی اچھی نہیں

دل لگی کا بھی نہ رونا ہو کہیں
ہر گھڑی کی یہ ہنسی اچھی نہیں

نازکی کا عذر رہنے دیجیے
بات اے جاں بس یہی اچھی نہیں

آ کے بیٹھا اور جانے کی پڑی
بس یہی تو خو تری اچھی نہیں

کون سی کیفیؔ بری ہے مجھ میں بات
ہاں یہ اک قسمت مری اچھی نہیں