میرے رونے پر ہنسی اچھی نہیں
بس جی بس یہ دل لگی اچھی نہیں
دل لگی کا بھی نہ رونا ہو کہیں
ہر گھڑی کی یہ ہنسی اچھی نہیں
نازکی کا عذر رہنے دیجیے
بات اے جاں بس یہی اچھی نہیں
آ کے بیٹھا اور جانے کی پڑی
بس یہی تو خو تری اچھی نہیں
کون سی کیفیؔ بری ہے مجھ میں بات
ہاں یہ اک قسمت مری اچھی نہیں
غزل
میرے رونے پر ہنسی اچھی نہیں
دتا تریہ کیفی

