EN हिंदी
میرے لیے تو حرف دعا ہو گیا وہ شخص | شیح شیری
mere liye to harf-e-dua ho gaya wo shaKHs

غزل

میرے لیے تو حرف دعا ہو گیا وہ شخص

رشید قیصرانی

;

میرے لیے تو حرف دعا ہو گیا وہ شخص
سارے دکھوں کی جیسے دوا ہو گیا وہ شخص

میں آسماں پہ تھا تو زمیں کی کشش تھا وہ
اترا زمین پر تو ہوا ہو گیا وہ شخص

سوچوں بھی اب اسے تو تخیل کے پر جلیں
مجھ سے جدا ہوا تو خدا ہو گیا وہ شخص

سب اشک پی گیا مرے اندر کا آدمی
میں خشک ہو گیا ہوں ہرا ہو گیا وہ شخص

میں اس کا ہاتھ دیکھ رہا تھا کہ دفعتاً
سمٹا سمٹ کے رنگ حنا ہو گیا وہ شخص

یوں بھی نہیں کہ پاس ہے میرے وہ ہم نفس
یہ بھی غلط کہ مجھ سے جدا ہو گیا وہ شخص

پڑھتا تھا میں نماز سمجھ کر اسے رشیدؔ
پھر یوں ہوا کہ مجھ سے قضا ہو گیا وہ شخص