EN हिंदी
میرے ہی دل کے ستانے کو غم آیا سیدھا | شیح شیری
mere hi dil ke satane ko gham aaya sidha

غزل

میرے ہی دل کے ستانے کو غم آیا سیدھا

حاتم علی مہر

;

میرے ہی دل کے ستانے کو غم آیا سیدھا
راستہ دیکھ لیا ہے مرے گھر کا سیدھا

ایک صورت کبھی طالع کی نہ دیکھی ہم نے
خط تقدیر لکھا ہے عجب الٹا سیدھا

سیدھی سیدھی ہمیں ہر وقت سنا بیٹھتے ہو
نام سن پایا ہے صاحب نے ہمارا سیدھا

ٹیڑھی بانکے ہوئے اس شوخ کے آگے سیدھے
کیا ہی کج فہم ہے وہ جو اسے سمجھا سیدھا

عشق پیچاں کو کیا ہم نے جو آڑا ترچھا
سرو کو یار نے گلشن میں بنایا سیدھا

خط کے آنے پہ بھی ٹیڑھا ہی رہا وہ ہم سے
خضر نے بھی ہمیں رستہ نہ بتایا سیدھا

مہرؔ واللہ میں قاتل ہوں تری باتوں کا
خوب انداز سخن ہے ترا سیدھا سیدھا