EN हिंदी
مذاق عشق سے میں شرمسار ہو نہ سکا | شیح شیری
mazaq-e-ishq se main sharmsar ho na saka

غزل

مذاق عشق سے میں شرمسار ہو نہ سکا

مخمور جالندھری

;

مذاق عشق سے میں شرمسار ہو نہ سکا
کہ راز داں بھی مرا رازدار ہو نہ سکا

نظر سے ذروں کو الٹا گلوں کو چاک کیا
مگر میں سر خوش دیدار یار ہو نہ سکا

شباب و عشق کی کل عمر ایک لمحہ تھی
مجھے یہ لمحہ مگر سازگار ہو نہ سکا

بجائے خود مری ہستی کو کر دیا عریاں
وہ پردہ دار مرا پردہ دار ہو نہ سکا

وہ کس بھروسہ پر امیدوار ہو تیرا
تری نظر پہ جسے اعتبار ہو نہ سکا

ملاحظہ ہو محبت کا ذوق نظارہ
جو آشکار تھا وہ آشکار ہو نہ سکا

مرا مآل بھی ہوتا چمن سا عبرت ناک
جنوں کا شکر کہ وقف بہار ہو نہ سکا

نگاہ مست کا ممنون کیف ہوں مخمورؔ
کہ پی تو خوب مگر بادہ خوار ہو نہ سکا