EN हिंदी
موت کا کیوں کر اعتبار آئے | شیح شیری
maut ka kyun kar eatibar aae

غزل

موت کا کیوں کر اعتبار آئے

شاہد عشقی

;

موت کا کیوں کر اعتبار آئے
کہ شب غم بھی ہم گزار آئے

کسی حیلے کسی بہانے ہم
کوئے جاناں میں بار بار آئے

ایک خوئے وفا کے رشتے سے
یاد کتنے ستم شعار آئے

کس کو ہوتی نہیں ہے جان عزیز
ہم مگر پھر بھی سوئے دار آئے

ان سے ترک وفا کریں کیوں کر
جن پہ بے اختیار پیار آئے