EN हिंदी
موج خوں سر سے گزر جاتی ہے ہر رات مرے | شیح شیری
mauj-e-KHun sar se guzar jati hai har raat mere

غزل

موج خوں سر سے گزر جاتی ہے ہر رات مرے

فضیل جعفری

;

موج خوں سر سے گزر جاتی ہے ہر رات مرے
پھوٹ کر خوابوں میں روتا ہے کوئی سات مرے

اب نہ وہ گیت نہ چوپال نہ پنگھٹ نہ الاؤ
کھو گئے شہروں کے ہنگاموں میں دیہات مرے

زندگی بھول گئی اپنے غموں میں اس کو
دولت درد وفا بھی نہ لگی ہات مرے

مدتوں پہلے کہ جب تجھ سے تعارف بھی نہ تھا
تیری تصویر بناتے تھے خیالات مرے