EN हिंदी
موج خیال یار غم آثار آئی ہے | شیح شیری
mauj-e-KHayal-e-yar gham-e-asar aai hai

غزل

موج خیال یار غم آثار آئی ہے

صدیق مجیبی

;

موج خیال یار غم آثار آئی ہے
کیوں چاہتوں کے بیچ یہ دیوار آئی ہے

اک بوند ہاتھ آئی ہے پتھر نچوڑ کر
آنکھوں سے لب پہ قوت اظہار آئی ہے

ہم دشمنوں میں اپنی زباں ہار آئے ہیں
جب ہاتھ کٹ چکے ہیں تو تلوار آئی ہے

کیوں آسماں نے دست تہی پھر کیا دراز
کیوں دھوپ زیر سایۂ دیوار آئی ہے

سورج جھلس گیا ہے ہر اک شاخ جسم و جاں
دن ڈھل گیا تو گھر میں شب تار آئی ہے

بے صوت تھا مجیبیؔ ہر اک نغمۂ خیال
ٹوٹا جو دل تو ساز کی جھنکار آئی ہے