موج در موج تو ساحل کی رگوں پر دوڑے
پیاس بجھ پائی نہیں لاکھ سمندر دوڑے
شہر ایقان کا ہر کتبہ گواہی دے گا
وقت کی پیٹھ پہ امیدوں کے لشکر دوڑے
میرے احساس کی چوکھٹ پہ اتر آئے ہیں
چند ذرے جو سر راہ مچل کر دوڑے
تیرگی آج تری زور کو ہم دیکھیں گے
ہاتھ میں نور لئے تیرہ مقدر دوڑے
لوگ سچائی کو تسلیم کریں گے عامرؔ
تختۂ دار کی جانب جو ترا سر دوڑے
غزل
موج در موج تو ساحل کی رگوں پر دوڑے
عامر نظر

