مسرور دل زار کبھی ہو نہیں سکتا
یعنی ترا دیدار کبھی ہو نہیں سکتا
میں غیر وفادار کبھی ہو نہیں سکتا
اس سے تمہیں انکار کبھی ہو نہیں سکتا
اب لطف و کرم پر بھی بھروسہ نہیں اس کو
اچھا ترا بیمار کبھی ہو نہیں سکتا
اسے شیخ اگر خلد کی تعریف یہی ہے
میں اس کا طلب گار کبھی ہو نہیں سکتا
اعمال کی پرسش نہ کرے داور محشر
مجبور تو مختار کبھی ہو نہیں سکتا
ممکن ہے فرشتوں سے کوئی سہو ہوا ہو
میں اتنا گناہ گار کبھی ہو نہیں سکتا
آزار محبت ہے اور آزار ہے اے جوشؔ
جو باعث آزار کبھی ہو نہیں سکتا
غزل
مسرور دل زار کبھی ہو نہیں سکتا
جوشؔ ملسیانی

