EN हिंदी
مسافتیں کب گمان میں تھیں سفر سے آگے | شیح شیری
masafaten kab guman mein thin safar se aage

غزل

مسافتیں کب گمان میں تھیں سفر سے آگے

جلیل عالیؔ

;

مسافتیں کب گمان میں تھیں سفر سے آگے
نکل گئے اپنی دھن میں اس کے نگر سے آگے

شجر سے اک عمر کی رفاقت کے سلسلے ہیں
نگاہ اب دیکھتی ہے برگ و ثمر سے آگے

یہ دل شب و روز اس کی گلیوں میں گھومتا ہے
وہ شہر جو بس رہا ہے دشت نظر سے آگے

خجل خیالوں کی بھیڑ حیرت سے تک رہی ہے
گزر گیا رہرو تمنا کدھر سے آگے

طلسم عکس و صدا سے نکلے تو دل نے جانا
یہ حرف کچھ کہہ رہے ہیں عرض ہنر سے آگے

نثار ان ساعتوں پہ صدیوں کے سحر عالؔی
جئے ہیں جن کے جلو میں شام و سحر سے آگے