EN हिंदी
مرحلے زیست کے آسان ہوئے | شیح شیری
marhale zist ke aasan hue

غزل

مرحلے زیست کے آسان ہوئے

باقی صدیقی

;

مرحلے زیست کے آسان ہوئے
شہر کچھ اور بھی ویران ہوئے

آس لگاؤ پہ ہر اک شخص سے لاگ
تھی نئی بات کہ حیران ہوئے

وہ نظر اٹھنے لگی دل کی طرف
حادثے اب مرے ارمان ہوئے

آپ کو ہم سے شکایت کیسی
ہم تو غافل ہوئے نادان ہوئے

دل وارفتہ کی باتیں باقیؔ
یاد کر کر کے پشیمان ہوئے