EN हिंदी
مرگ عاشق پر فرشتہ موت کا بدنام تھا | شیح شیری
marg-e-ashiq par farishta maut ka badnam tha

غزل

مرگ عاشق پر فرشتہ موت کا بدنام تھا

منظر لکھنوی

;

مرگ عاشق پر فرشتہ موت کا بدنام تھا
وہ ہنسی روکے ہوئے بیٹھا تھا جس کا کام تھا

خون ناحق سے مکرنے کا کہاں ہنگام تھا
تیر جتنے دل سے نکلے سب پر ان کا نام تھا

کیا بتائی جائیں شام ہجر کی مجبوریاں
دل ہمارا تھا نہ ہم دل کے عجب ہنگام تھا

ہجر کی دو کروٹوں نے کر دیا قصہ تمام
درد دل آغاز تھا درد جگر انجام تھا

ایسے وقتوں میں کلیجہ غم سے ہو جاتا ہے شق
صبر اپنے دل کی میت پر ہمارا کام تھا

اہل محشر دیکھ لوں قاتل کو تو پہچان لوں
بھولی بھولی شکل تھی اور کچھ بھلا سا سام تھا

اب کوئی دیوانہ کہتا ہے کوئی وحشی مجھے
آپ کی الفت سے پہلے میرا منظرؔ نام تھا