مرض عشق دل کو زور لگا
جاں بلب ہوں خیال گور لگا
بے طرح کچھ گھلا ہی جاتا ہے
شمع کی طرح دل کو چور لگا
تیرے مکھڑے کو یوں تکے ہے دل
چاند کے جوں رہے چکور لگا
در و دیوار پر ہر ایک طرف
آنسوؤں سے اثرؔ کے شور لگا
غزل
مرض عشق دل کو زور لگا
میر اثر

