EN हिंदी
منظر عجب تھا اشکوں کو روکا نہیں گیا | شیح شیری
manzar ajab tha ashkon ko roka nahin gaya

غزل

منظر عجب تھا اشکوں کو روکا نہیں گیا

فاروق شفق

;

منظر عجب تھا اشکوں کو روکا نہیں گیا
ہنستا ہوا جو آیا تھا ہنستا نہیں گیا

اک بار یوں ہی دیکھ لیا تھا اسے کہیں
پھر اس کے بعد شہر میں دیکھا نہیں گیا

تھی جس کے دم سے رونق محفل ہما ہمی
دعوت میں اس غریب کو پوچھا نہیں گیا

ساری خدائی خود ہی کھنچی جاتی تھی ادھر
میں خود وہاں گیا مجھے بھیجا نہیں گیا

جو کچھ نہ دیکھتا تھا شفقؔ دیکھنا پڑا
گھر لے کے مجھ کو شام کو رستہ نہیں گیا