EN हिंदी
میں یوں ہی ٹوٹتا بکھرتا ہوں | شیح شیری
main yunhi TuTta bikharta hun

غزل

میں یوں ہی ٹوٹتا بکھرتا ہوں

منیر سیفی

;

میں یوں ہی ٹوٹتا بکھرتا ہوں
روز جیتا ہوں روز مرتا ہوں

دشت و دریا غبار کرتا ہوں
میں ہوا ہوں کہاں ٹھہرتا ہوں

پیچھے مڑ کر کبھی نہیں دیکھا
میں ہواؤں سے بات کرتا ہوں

برگ و گل تتلیاں سلامت سب
سر قلم خوشبوؤں کے کرتا ہوں

روز نقشہ بنا کے دنیا کا
رنگ امن و سکون بھرتا ہوں

دل کی راہوں میں قینچیاں رکھ دیں
تیری یادوں کے پر کترتا ہوں

لوگو ہر سو صلیب و دار رکھو
آسماں سے ابھی اترتا ہوں

چاندنی سائے رقص تاج محل
خواب آنکھوں میں روم بھرتا ہوں

رستہ پاؤں پکڑنے لگتا ہے
جب ترے دل سے میں گزرتا ہوں