میں یوں ہی ٹوٹتا بکھرتا ہوں
روز جیتا ہوں روز مرتا ہوں
دشت و دریا غبار کرتا ہوں
میں ہوا ہوں کہاں ٹھہرتا ہوں
پیچھے مڑ کر کبھی نہیں دیکھا
میں ہواؤں سے بات کرتا ہوں
برگ و گل تتلیاں سلامت سب
سر قلم خوشبوؤں کے کرتا ہوں
روز نقشہ بنا کے دنیا کا
رنگ امن و سکون بھرتا ہوں
دل کی راہوں میں قینچیاں رکھ دیں
تیری یادوں کے پر کترتا ہوں
لوگو ہر سو صلیب و دار رکھو
آسماں سے ابھی اترتا ہوں
چاندنی سائے رقص تاج محل
خواب آنکھوں میں روم بھرتا ہوں
رستہ پاؤں پکڑنے لگتا ہے
جب ترے دل سے میں گزرتا ہوں
غزل
میں یوں ہی ٹوٹتا بکھرتا ہوں
منیر سیفی

