میں وہاں ہوں کہ نہیں چاہے تو جا کر دیکھے
کوزہ گر خود مری مٹی میں سما کر دیکھے
بعد میں رکھے سرابوں کے دیاروں میں قدم
پہلے وہ سانس کی سرحد پہ تو آ کر دیکھے
مرے اظہار کو کچھ اور ثمرور کر دے
وہ مجھے لمس کی شاخوں پہ اگا کر دیکھے
گونج اٹھے کوئی کھوئی ہوئی دنیا شاید
مرے خلیوں میں وہ آواز لگا کر دیکھے
دیکھیں پھر رقص میں آتے ہیں بھنور کتنے ریاضؔ
کوئی پانی پہ مرا نام بہا کر دیکھے
غزل
میں وہاں ہوں کہ نہیں چاہے تو جا کر دیکھے
ریاض لطیف