EN हिंदी
میں سوچتا تھا کہ وہ زخم بھر گیا کہ نہیں | شیح شیری
main sochta tha ki wo zaKHm bhar gaya ki nahin

غزل

میں سوچتا تھا کہ وہ زخم بھر گیا کہ نہیں

خورشید رضوی

;

میں سوچتا تھا کہ وہ زخم بھر گیا کہ نہیں
کھلا دریچہ در آئی صبا کہا کہ نہیں

ہوا کا رخ تو اسی بام و در کی جانب ہے
پہنچ رہی ہے وہاں تک مری صدا کہ نہیں

زباں پہ کچھ نہ سہی سن کے میرا حال تباہ
ترے ضمیر میں ابھری کوئی دعا کہ نہیں

لبوں پہ آج سر بزم آ گئی تھی بات
مگر وہ تیری نگاہوں کی التجا کہ نہیں

خود اپنا حال سناتے حجاب آتا ہے
ہے بزم میں کوئی دیرینہ آشنا کہ نہیں

ابھی کچھ اس سے بھی نازک مقام آئیں گے
کروں میں پھر سے کہانی کی ابتدا کہ نہیں

پڑھو نہ عشق میں خورشیدؔ ہم نہ کہتے تھے
تمہیں بتاؤ کہ جی کا زیاں ہوا کہ نہیں