EN हिंदी
میں شعلۂ اظہار ہوں کوتاہ ہوں قد تک | شیح شیری
main shoala-e-izhaar hun kotah hun qad tak

غزل

میں شعلۂ اظہار ہوں کوتاہ ہوں قد تک

فارغ بخاری

;

میں شعلۂ اظہار ہوں کوتاہ ہوں قد تک
وسعت مری دیکھو تو ہے دیوار ابد تک

ماحول میں سب گھولتے ہیں اپنی سیاہی
رخ ایک ہی تصویر کے ہیں نیک سے بد تک

کچھ فاصلے ایسے ہیں جو طے ہو نہیں سکتے
جو لوگ کہ بھٹکے ہیں وہ بھٹکیں گے ابد تک

کب تک کوئی کرتا پھرے کرنوں کی گدائی
ظلمت کی کڑی دھوپ تو ڈستی ہے ابد تک

یوں روٹھے مقدر کہ کوئی کام نہ بن پائے
یوں ٹوٹے سہارا کوئی پہنچے نہ مدد تک

اب بھی ترے نزدیک موحد نہیں فارغؔ
اقرار کیا ہے ترا انکار کی حد تک