EN हिंदी
میں لکھ کر ہو سکوں گا سرخ رو کیا | شیح شیری
main likh kar ho sakunga surKH-ru kya

غزل

میں لکھ کر ہو سکوں گا سرخ رو کیا

ارمان نجمی

;

میں لکھ کر ہو سکوں گا سرخ رو کیا
قلم کیا اور قلم کی آبرو کیا

نہ سوچا کاٹنے والے نے اتنا
ہری ڈالی کی تھی کچھ آرزو کیا

ذرا جاگے تو ہم سینہ سپر ہوں
انا کو جو سلا دے وہ لہو کیا

زمیں کو آب و دانہ دے کے دیکھو
کھلا دیتی ہے گلزار نمو کیا

عدو کو زیر کر لو فاصلوں سے
لڑائی اب ہے لازم دو بہ دو کیا