EN हिंदी
میں کیا بتاؤں کہ تو کیا ہے اور کیا ہوں میں | شیح شیری
main kya bataun ki tu kya hai aur kya hun main

غزل

میں کیا بتاؤں کہ تو کیا ہے اور کیا ہوں میں

جمیلؔ مظہری

;

میں کیا بتاؤں کہ تو کیا ہے اور کیا ہوں میں
ہجوم لفظ و معانی میں کھو گیا ہوں میں

پنہا دے کوئی محبت کی ایک کڑی زنجیر
کہ قید فرض سے باہر نکل گیا ہوں میں

ثواب کو نئی شکلیں جو دے رہا ہے تو
گناہ کے نئے سانچے بنا رہا ہوں میں

جنوں مرا خرد آسودۂ نتائج ہے
خود اپنے پاؤں کی زنجیر ڈھالتا ہوں میں

مری نظر میں تجلی کی کیا حقیقت ہے
تجلیوں کی حقیقت کو دیکھتا ہوں میں

گرا چکا تھا جسے کل نظر سے اپنی جمیلؔ
غرور اب اسی پستی پہ کر رہا ہوں میں