میں خود کو ہر اک سمت سے گھیر کر
کھڑا ہوں پرے خود سے منہ پھیر کر
نہ خود سے بھی ملنے کی جلدی مچا
مری مان تھوڑی بہت دیر کر
میں اپنا ہی مد مقابل ہوں اب
کہوں خود سے لے اب مجھے زیر کر
کہوگے مگر کیا کہ خود کو تو میں
کہیں سے بھی لے آؤں گا گھیر کر
یوں ہی کھو دیا تجھ کو بھی خود کو بھی
کبھی جلدی کر تو کبھی دیر کر
نہیں سانس لینے کا بھی تلخؔ دم
نہ سانسوں کا تو جمع یہ ڈھیر کر

غزل
میں خود کو ہر اک سمت سے گھیر کر
منموہن تلخ