میں جب سے سچ کو سچ کہنے لگا ہوں
جہاں کی آنکھ میں چبھنے لگا ہوں
اجالا بانٹنے کی یہ سزا ہے
انہریا چاند سا گھٹنے لگا ہوں
بھرم رکھنا ان آنکھوں کا کہ جن کو
میں روشن دان سا لگنے لگا ہوں
میں اس کردار کو اب جی سکوں گا
میں اس کردار پر مرنے لگا ہوں

غزل
میں جب سے سچ کو سچ کہنے لگا ہوں
پربدھ سوربھ