EN हिंदी
میں جب بھی قتل ہو کر دیکھتا ہوں | شیح شیری
main jab bhi qatl ho kar dekhta hun

غزل

میں جب بھی قتل ہو کر دیکھتا ہوں

رضی اختر شوق

;

میں جب بھی قتل ہو کر دیکھتا ہوں
تو اپنوں ہی کا لشکر دیکھتا ہوں

میں دنیا اپنے اندر دیکھتا ہوں
یہیں پہ سارا منظر دیکھتا ہوں

کبھی تصویر کر دیتا ہوں اس کو
کبھی تصویر بن کر دیکھتا ہوں

مجھے اس جرم میں اندھا کیا ہے
کہ بینائی سے بڑھ کر دیکھتا ہوں

نشاط دید تھا آنکھوں کا جانا
کہ اب پہلے سے بہتر دیکھتا ہوں

وہ منظر جو نظر آتا ہے خالی
خود اپنے رنگ بھر کر دیکھتا ہوں

وہ چہرہ ہائے وہ چہرہ وہ چہرہ
جسے خود سے بھی چھپ کر دیکھتا ہوں