EN हिंदी
میکدے کے سوا ملی ہے کہاں | شیح شیری
mai-kade ke siwa mili hai kahan

غزل

میکدے کے سوا ملی ہے کہاں

فرید جاوید

;

میکدے کے سوا ملی ہے کہاں
اور دنیا میں روشنی ہے کہاں

آرزوؤں کا اک ہجوم سہی
فرصت شوق کھو گئی ہے کہاں

جتنے وارفتہ‌ٔ سفر ہیں ہم
اتنی راہوں میں دل کشی ہے کہاں

ساتھ آئے کوئی کہ رہ جائے
زندگی مڑ کے دیکھتی ہے کہاں

خوش ادا سب ہیں آشنا جاویدؔ
اپنی آوارگی چھپی ہے کہاں