EN हिंदी
محو کر دی ذہن سے غم نے تری تصویر بھی | شیح شیری
mahw kar di zehn se gham ne teri taswir bhi

غزل

محو کر دی ذہن سے غم نے تری تصویر بھی

دل ایوبی

;

محو کر دی ذہن سے غم نے تری تصویر بھی
دونوں دشمن ہیں مری تقدیر بھی تدبیر بھی

مسکراتی ہے مری آنکھوں میں آنسو دیکھ کر
کس قدر بے درد ہے ظالم تری تصویر بھی

کس قدر نازک ہے احساسات کا عالم کہ عشق
ایک ہی نشہ ہے لیکن زہر بھی اکسیر بھی

ان کے دیوانوں کی سج دھج کو حقارت سے نہ دیکھ
عشق کا زیور ہیں ناداں طوق بھی زنجیر بھی

اے دلؔ اس کی یاد ہے گویا اسی کا آئنہ
مژدۂ جاں بخش بھی چلتی ہوئی شمشیر بھی