مہ رو نہ ہو اور چاندنی وہ رات ہے کس کام کی
ہو وہ بھی پر خلوت نہ ہو یہ بات ہے کس کام کی
دو بوسے یا لگ لو گلے تب گالیاں میٹھی لگیں
گر وہ نہیں اور یہ نہیں صلوات ہے کس کام کی
جب یار سے ہووے جدا ایک یار جانی دوستو
باغ و بہار و جام و مل برسات ہے کس کام کی
ہے نسب میں عالی اگر رکھتا نہ ہو علم و ہنر
اک ڈھیر سے بھی ہے بتر وہ ذات ہے کس کام کی
غزل
مہ رو نہ ہو اور چاندنی وہ رات ہے کس کام کی
مرزا اظفری

