EN हिंदी
مہ رو نہ ہو اور چاندنی وہ رات ہے کس کام کی | شیح شیری
mah-ru na ho aur chandni wo raat hai kis kaam ki

غزل

مہ رو نہ ہو اور چاندنی وہ رات ہے کس کام کی

مرزا اظفری

;

مہ رو نہ ہو اور چاندنی وہ رات ہے کس کام کی
ہو وہ بھی پر خلوت نہ ہو یہ بات ہے کس کام کی

دو بوسے یا لگ لو گلے تب گالیاں میٹھی لگیں
گر وہ نہیں اور یہ نہیں صلوات ہے کس کام کی

جب یار سے ہووے جدا ایک یار جانی دوستو
باغ و بہار و جام و مل برسات ہے کس کام کی

ہے نسب میں عالی اگر رکھتا نہ ہو علم و ہنر
اک ڈھیر سے بھی ہے بتر وہ ذات ہے کس کام کی