EN हिंदी
مانا کہ ہم اس دور کا حاصل تو نہیں تھے | شیح شیری
mana ki hum is daur ka hasil to nahin the

غزل

مانا کہ ہم اس دور کا حاصل تو نہیں تھے

کرار نوری

;

مانا کہ ہم اس دور کا حاصل تو نہیں تھے
ناقدریٔ دنیا کے بھی قابل تو نہیں تھے

آتا تو سہی باد سحر کا کوئی جھونکا
ہم خاص کسی پھول پہ مائل تو نہیں تھے

ہر شخص نے نقش کف پا ہم کو بنایا
ہر شخص کی ہم راہ میں حائل تو نہیں تھے

دو گھونٹ ہی پی لیتے اگر کوئی پلاتا
ہم رند خوش اوقات تھے سائل تو نہیں تھے

کیا بات ہے نوریؔ جو ہے اب لہجے میں نرمی
تم نرمیٔ گفتار کے قاتل تو نہیں تھے