EN हिंदी
مانا اپنی جان کو وہ بھی دل کا روگ لگائیں گے | شیح شیری
mana apni jaan ko wo bhi dil ka rog lagaenge

غزل

مانا اپنی جان کو وہ بھی دل کا روگ لگائیں گے

ابو محمد سحر

;

مانا اپنی جان کو وہ بھی دل کا روگ لگائیں گے
اہل جنوں خود کیا سمجھے ہیں ناصح کیا سمجھائیں گے

شاید اشک و آہ سے ہی اب بار الم کچھ ہلکا ہو
ہم بھی کریں گے شعلہ فشانی ہم بھی لہو برسائیں گے

جی نہ سکیں گے جینے والے ترک تعلق کر کے مگر
آپ کو بھی کچھ وحشت ہوگی آپ بھی کچھ پچھتائیں گے

ملنا تیرا مشکل تھا تو جی لیتے اس مشکل پر
پا کر تجھ کو کھونے والے کیونکر جی بہلائیں گے