EN हिंदी
لطف ہو گر تو ہو اور مے خانہ ہو | شیح شیری
lutf ho gar tu ho aur mai-KHana ho

غزل

لطف ہو گر تو ہو اور مے خانہ ہو

مرزا آسمان جاہ انجم

;

لطف ہو گر تو ہو اور مے خانہ ہو
میں ہوں اور میرا دل دیوانہ ہو

جس زباں پر ہو ترا افسانہ ہو
کوئی ہو اپنا ہو یا بیگانہ ہو

یاں تو ہے دیدار سے تیری غرض
دیر ہو کعبہ ہو یا بت خانہ ہو

جس کو دیکھا جلتے ہی دیکھا یہاں
شمع ہو عاشق ہو یا پروانہ ہو

ہم کو تو دو گز زمیں درکار ہے
شہر ہو بستی ہو یا ویرانہ ہو

دور ساقی میں کسے گردش نہیں
شیشہ ہو ساغر ہو یا پیمانہ ہو

کیا قیامت ہو جو انجمؔ حشر میں
کوئی سودائی کوئی دیوانہ ہو