EN हिंदी
لوگ ہر چند پند کرتے ہیں | شیح شیری
log har-chand pand karte hain

غزل

لوگ ہر چند پند کرتے ہیں

عبدالوہاب یکروؔ

;

لوگ ہر چند پند کرتے ہیں
عاشقاں کب پسند کرتے ہیں

جامہ زیباں دکھا کے قد اپنا
دل عشاق بند کرتے ہیں

نگہ گرم سیں سدا عاشق
آتش دل بلند کرتے ہیں

شوخ چشماں لے جانے کوں دل کے
خم ابرو کمند کرتے ہیں

جو کہ تجھ لعل لب کے طالب ہیں
قند کوں کب پسند کرتے ہیں

گر نہیں مسخرہ رقیب اس کوں
لوگ کویں ریش خند کرتے ہیں

جو کہ چلتے ہیں عشق کی رہ میں
دل کوں یکروؔ سمند کرتے ہیں