لکھوں فراق کی گر واردات وصلی پر
جدا جدا ہوں تپاں مفردات وصلی پر
لکھا تھا میں نے جو بخت سیاہ کا احوال
گری سیاہی کی آخر دوات وصلی پر
ہمارے یار نے طفلی میں بھی سوائے ستم
لکھا نہیں رقم التفات وصلی پر
یہ بات نکلے ہے انداز سے کہ اب معروفؔ
لکھے گا اس لب شیریں کی بات وصلی پر
غزل
لکھوں فراق کی گر واردات وصلی پر
معروف دہلوی

